Ghazal - Badan Ki Sarzameen Par Tu Hukmaran Aur Hai

May 12, 2007 on 10:29 pm | In Udas Honay Kay Din Nahi |

بدن کی سرزمین پر تو حکمران اور ہے

مگرجودل میں بس رہا ہے مہربان اور ہے

جو مُجھ سے منسلک ہُوئیں کہانیاں کُچھ اور تھیں

جو دِل کو پیش آئی ہے وہ داستان اور ہے

یہ مرحلہ تو سہل تھا محبتوں میں وصل کا

ابھی تمہیں خبر نہیں کہ امتحان اور ہے

وہ دن کدھرگئے مِرے وہ رات کیا ہوئی مِری

یہ سرزمین نہیں ہے وہ یہ آسمان اور ہے

وہ جس کو دیکھتے ہو تم ضرورتوں کی بات ہے

جوشاعری میں ہے کہیں وہ خُوش بیان اور ہے

جو سائے کی طرح سے ہے وہ سایہ دار بھی تو ہے

مگر ہمیں ملا ہے جو وہ سائبان اور ہے

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^