Nazam - Koun Rook Sakta Hai
May 13, 2007 on 12:16 am | In Udas Honay Kay Din Nahi |کون روک سکتا ہے
لاکھ ضبطِ خواہش کے
بے شمار دعوے ہوں
اُس کو بھُول جانے کے
نے پنہِ ارادے ہوں
اور اس محبت کو ترک کرکے جینے کا
فیصلہ سُنانے کو
کتنے نفط سوچے ہوں
دل کو اس کی آہٹ پر
برَملا دھڑکنے سے کون روک سکتاہے
پھر وفاکے صحرامیں
اُس کے نرم لہجے اور سوگوار آنکھوں کی
خُوشبوؤں کو چھُونے کی
جستجو مین رہنے سے
رُوح تک پگلھلنے سے
ننگے ہاؤں چلنے سے
کون ورک سکتا ہے
آنسوؤں کی بارش میں
چاہے دل کے ہاتھوں میں
ہجرکے مُسافر کے
پاؤں تک بھی چھُوآؤ
جِس کو لَوٹ جانا ہو
اس کو دُور جانے سے
راستہ بدلنے سے
دُور جانکلنے سے
کون روک سکتا ہے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^