Ghazal - Guraiz e Shab Say Sehar Say Kalam Rakhtay Thai

May 12, 2007 on 11:47 pm | In Udas Honay Kay Din Nahi |

گُریز شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے

کبھی وہ دن تھے کہ زُلفوں میں شام رکھتے تھے

تمھارے ہاتھ لگے ہیں  تو جو کرو سو کرو

وگرنہ تم سے تو ہم سو غلام رکھتے تھے

ہمیں بھی گھیر لیا گھر زعم نے تو کھُلا

کُچھ اور لوگ بھی اِ س میں قیام رکھتے تھے

یہ اور بات ہمیں دوستی نہ راس آئی

ہُوا تھی ساتھ تو خُوشبو مقام رکھتے تھے     

نجانے کون سی رُت میں  بھچڑ  گئے وہ لوگ

جو اپنے دل میں بہت احترام رکھتے تھے

وہ آتو جاتا کبھی ، ہم تو اُس کے رستوں پر

دئے جلائے ہوئے  صبح و شام رکھتے تھے

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^