Ghazal - Palat Kar Phir Kabhi Uss Nay Pukara hi Nahi Hai

May 12, 2007 on 11:08 pm | In Udas Honay Kay Din Nahi |

پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے

وہ جس کی یاد سے دل کو کنارا ہی نہیں ہے

محّبت کھیل ایسا تو نہیں ہم لَوٹ جائیں

کہ اِس میں جیت بھی ہوگی خسارا ہی نہیں ہے

کبھی وہ جُگنوؤں کو مُٹھیوں میں قید کرنا

مِگر اب تو ہمیں یہ سب گواراہی نہیں ہے

اب اس کے خال وخد کا ذکر کیا کرتے کِسی سے

کہ ہم پر آج تک وہ آشکاراہی نہیں ہے

یہ خواہش تھی کہ ہم کُچھ دُور تک تو ساتھ چلتے

ستاروں کا مگر کوئی اِشارا ہی نہیں ہے

بہت سے زخم کھانے دل نے آخرطے کیا ہے

تمھارے شہر میں اپنا گزارا ہی نہیں ہے

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^